Surah Al-An'am|Ayat#53 - 54| Dr.Humaira Tariq by Jamaat Women published on 2022-12-22T06:41:35Z Surah Al-An'am Ayah#53 -54 Class#281 By: Dr.Humaira Tariq www.jamaatwomen.org ___________________________ اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَیطٰنِ الرَّجِیمِ 🔸 بِسمِ اللهِ الرَّحَمٰنِ الرَّحِیمِ 🌸 سورہ الانعام ✨ قرآن کی سورہ نمبر 6 🌺ترجمہ: دراصل ہم نے ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ہے جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو تم پر سلامتی ہے تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوا اپنے اوپر لازم کر لیا ہے یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی کسی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے 🔸اللہ کی خوشنودی کا معیار اللہ کی شکر گزاری میں ہے 🔸غربت کو ذلت کی علامت سمجھنا غلط ہے 🔸اللہ کو اپنے بندے کی فرمابرداری ، شکر گزاری اور عاجزی مطلوب ہے 🔅 دنیا کی ٹھاٹھ باٹھ، دولت آزمائش ہے ⬅️اللہ دیکھتا ہے امیر انسان کیسے خلق خدا کے کام آتا ہے 🔸قریش نے دولتِ دنیا کو صرف عزت و ذلت کا معیار سمجھا 🚫قریش کے تصور کو یہاں درست کیا گیا ہے 📌اللہ کے ہاں متقی وہ ہے جو پرہیزگار اور شکر گزار ہے 🌺کیا اللہ اپنے شکر گزار بندوں سے اچھی طرح واقف نہیں ہے 🔸اللہ تعالی اپنے بندوں کو دنیا کی نعمتوں سے نوازتا ہے 🔸دنیاوی لحاظ سے جو بہتر ہے اللہ اسے دے کر آزماتا ہے 🔸اللہ تعالی دونوں طریقوں سے اپنے بندے کو آزماتا ہے 🔸اللہ بندے کو نعمتیں دے کر اس میں شکر گزاری، ان نعمتوں کا صحیح استمعال اور احساس کا رویہ دیکھنا چاہتا ہے 🌺 جب تمہارے پاس وہ لوگ آیا کریں جو ہماری آیات پر ایمان لائے ہیں تو تم ان کو کہو کہ تم پر سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے ⤴️آیت نمبر 54 میں اللہ تعالی نے اہل ایمان پر سلام بھیجا ہے 🔸ایسے لوگوں پر اللہ کی سلامتی ہے 🔸جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں 🔸جب کوئی کمی یا آزمائش آئے تو اس پر صبر کرتے ہیں 🔸یہ رویہ صرف ایمان کی وجہ سے انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے 🔅اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منع فرمایا تھا کہ ⬅️آپ ہرگز ان اشراف قریش کی خاطر اپنے صحابہ کو اپنی صحبت سے دور نہیں کریں گے 🔅قریش کے بڑے سرداروں نے مطالبہ کیا ⬅️ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سننا چاہتے ہیں ⬅️لیکن غریب صحابہ جو آپ کے پاس بیٹتھے ہیں ان کے برابر ہم بیٹھ نہیں سکتے 📌اللہ تعالی نے منع فرمایا کہ جو صحابہ کرام شوق سے آپ کے پاس آتے ہیں انہیں اپنے سے دور نہیں کرنا 💐اللہ کو مطلوب ہے کہ بندہ اللہ کے دین کو سمجھے اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ محبت کرے 🌺اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اللہ نے رحمت اپنے اوپر واجب کر لی ہے 🔸یہ رحمت پوری کائنات کے لئیے ہے 🔸صحابہ کو مخاطب کرکے بطور خاص بتایا گیا ہے کہ آپ کو نوازا جارہا ہے 🔸فرشتے قیامت کے دن اہل جنت کا استقبال ان پر سلامتی کے ساتھ کریں گے 🔸قیامت کے دن فرشتے اہل جنت کو خوش آمدید کہیں گے 🔸انسان اور جانور اور دوسری مخلوقات میں جہاں بھی کوئی اثر رحمت کا پایا جاتا ہے 🔸وہ اسی ایک رحمت کا حصہ ہے 🔸ماں باپ اور اولاد، بہن، بھائی اور شوہر بیوی اور عام رشتہ دار ،دوست ہم ایک سب ایک ہی حصہ رحمت کے نتائج میں ہیں 🌹ننانوے حصے رحمت کے باقی خود اللہ نے اپنے لئے رکھے ہیں (سبحان اللہ) اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ کی رحمت اپنی مخلوق پر کس درجے کی ہے 🔅 خوش نصیب انسانوں کے لئے ⬅️ اپنی رحمت کا ذکر کیا 🌺اللہ نے فرمایا کہ رب نے رحمت کو اپنے اوپر واجب کر لی 🌷رب کے معنی ہیں مرحلہ وار جو پالتا ہے پرورش کرتا ہے ✨اس لفظ (رب) کے اندر ہی مامتا کا تصور آتا ہے 🔸پروردگار ماں سے بڑھ کر اپنے بندوں کی ضروریات کو جاننے والا اور پوری کرنے والا ہے 🌺فرمایا اللہ اس کے گناہ معاف کر دے گا، جو توبہ کرے گا اور اصلاح کرے گا 🔸جو گناہ کر بیٹھے اس کے بعد توبہ کرے اپنے عمل کو درست کرلے 🔸اللہ بہت معاف کرنے والا اور اپنی رحمت کرنے والا ہے 🔸یہ امید اصلاح عمل کی اور اصلاح احوال کی ہے 🔸انسان کو امید دلا کہ اللہ کے دین کی طرف دعوت دی جارہی ہے 🔅جب انسان گناہ کے بعد توبہ کرکے اپنی اصلاح کرتا ہے ⬅️اللہ اس پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے ⬅️اللہ بندے کو نعمتوں بھری جنت میں داخل کرے گا 🤲🏻اللہ ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل کرے، ہمیں اپنے مقربین اور مقرمین میں شامل کرے آمین ثم آمین Genre Learning