Surah Al-An'am|Ayat#03| Dr.Humaira Tariq by Jamaat Women published on 2022-06-23T07:26:35Z Surah Al-An'am Ayah#03 Class#255 By: Dr.Humaira Tariq www.jamaatwomen.org 🔷 اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَیطٰنِ الرَّجِیمِ 🔷 🔸 بِسمِ اللهِ الرَّحَمٰنِ الرَّحِیمِ 🔸 🫧 آیت نمبر 3 💠 وہی ایک خدا آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمھارے کھلے اور چھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بھلائی بھی تم کرتے ہو اس سے خوب واقف ہے۔ ⚛️ ایمانیات کے حوالے سے تین عقائد کا ذکر ۔ 1️⃣ اللّہ کی قدرت --- قدرت کاملہ ⬅️ اللّہ تعالیٰ پوری کائنات میں موجود ⬅️ ہر چیز کا خالق اللّہ ہے۔ ⬅️ خلق اپنے خالق کے جاہ و جلال اور اختیارات کا ثبوت ہے ۔ ارشاد ربانی ہے:- وہی ایک آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا، اور وہی حکیم وعلیم ہے۔ (سورہ الزخرف: 84) 🔆 خدا کے حوالے سے مختلف قوموں کا تصور ⭕ زمین اور آسمان کا خدا الگ الگ ہے ۔ ⭕ کائنات بنانے اور اس کا نظام چلانے والی الگ ہستیاں ہیں۔ ❌ یہاں الگ خداؤں کے تصور کی نفی کی گئی ۔ ✅ واضح کیا گیا کہ اللّہ ہی زمین و آسمان دونوں کا خدا ہے۔ ♨️ زمین اور آسمان کے الگ خدا ہونے سے ❕نظام میں ہم آہنگی ، سازگاری اور موافقت نہ ہوتی۔ ❕دونوں کے اختیارات برابر ہونے پر تصادم ہوتا۔ ❕ عدم تعاون کا سلسلہ جاری رہتا۔ ♠️ آسمان زمین پر بارش کی جگہ آگ برسا دیتا تو زمین پر گھاس کا ایک تنکا بھی نہ ہوتا۔ ♠️ زمین کو روشنی مطلوب ہوتی اور آسمان سورج کی روشنی روک لیتا۔ ♠️ کائنات منظم اور مربوط طریقے سے نہ چلتی۔ ⬅️ اللّہ تعالیٰ صاحب کمال ہے۔ ⬅️ ہر شے اس کے قبضے میں ہے۔ ⬅️ اس کے سامنے ہر چیز کمزور ہے ۔ ⬅️ اللّہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ ⬅️ ہر چیز کو زوال ہے۔ ⬅️ بقا صرف اللّہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ ⬅️ اللّہ کے علم کی وسعت بے کنار ہے۔ 2️⃣ عقیدہ آخرت ⬅️ یہ دنیا عارضی قیام گاہ ہے ۔ ⬅️ مرنا برحق ہے۔ ⬅️ مرنے کے بعد قبر میں جانا ہے۔ ⬅️ انسان مٹی سے تیار کیا گیا اور دوبارہ اس کو مٹی میں ہی جانا ہے۔ 🔘لوگوں کے اعتاضات🔘 ✳️ اللہ تعالیٰ دوبارہ کیسے پیدا کرے گا؟ ✳️ ہمارے خفیہ اعمال کا اللہ کو کیسے علم ہو گا؟ ⚠️ وہ سب کے ظاہر و باطن معاملات سے واقف ہے۔ ⚠️ ہر سوچ کا اسے علم ہے۔ ⚠️ صحرا کی وسعت اور دریا کی گہرائی میں ہونے والی حرکات سے بھی وہ واقف ہے۔ ⚠️ دل میں آنے والے ہر اچھے، برے خیال کو جانتا ہے۔ ⚠️ کوئی جھوٹ بول کر بچ نہیں سکتا ۔ ❗ اللہ تعالیٰ حساب نہیں لے سکے گا~》یہ سوچ جہالت اور نادانی ہے! ❓ اللہ کے ساتھ بنائے گئے شریک، اللہ کی پکڑ سے بچا لیں گے؟ ❓ان کی سفارش سے اللہ ساری نافرمانیوں کو بخش دے گا ؟ ❓اس لیے ہر طرح کا عمل کرنے کی آزادی رکھتے ہیں؟ ♻️ آیت میں دیا گیا تصور 🔻 اگر شفاعت و سفارش کے لا یعنی تصور کو قبول کر لیا جائے تو آخرت کے واقع ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ 🔻 آخرت کا فائدہ ~》 ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا اور سزا ملے۔ 🔻 حسب و نسب اور مال و زر سے سفارش پر امتحان کا فائدہ نہیں۔ 🔻 آخرت دارالجزا اور دارالسزا ہے۔ ⤵️ یہودیوں کا عقیدہ ⚜️انبیاء کی اولاد ہونے کی وجہ سے آگ نہ چھوئے گی ۔ ⚜️ سزا ہوئی بھی تو کم مدت کی ہو گی۔ ✴️ نظام ربی ----- نظام عدل 🔸 اللہ تعالیٰ عادل ، قہار اور جبار ہے۔ 🔸 رحمٰن اور رحیم بھی ہے۔ 🔸 اپنے نظام کی سب سے بڑھ پاسداری کرنے والا ۔ 🔸 ہمارے اعمال سے ذاتی طور پر آگاہ ہے۔ 🔸 اللہ تعالیٰ کاپورا نظام -- نظام عدل کا تقاضا کرنے والا۔ 🔸 دائیں اور بائیں فرشتوں کا لکھنا۔ 🔸 دونوں فرشتوں کا نامہ اعمال لے کہ اللہ کے سامنے حاضر ہونا ۔ 🔸 انسان کے اپنے اعضا کا گواہی دینا 🔸 فرشتوں سے بڑھ کر اللہ خود گواہ ہے 🔸 اللہ حاضر و ناظر ہے 🔸 وہ غیب کا علم رکھتا ہے ⭐ امت محمدیہ - شفاعت کا تصور ⚡ شفاعت کی شرائط 💫 مسلمان ہونا 💫 اعمال میں قانون نجات کے حوالے سے کمی ہو 🌸 انبیاء اور نیک لوگوں کو ایسے شخص کی سفارش کی عزت بخشی جائے گی 💫یہ جلیل القدر شخصیات اپنی مرضی سے شفاعت نہیں کر سکیں گی۔ 🌸 شفاعت صرف اس کی ہو گی جس کے لیے اللہ اجازت دے۔ 🌸 نبیﷺ شفاعت کبریٰ کے منصب پر فائز کیے جائیں گے ۔ 🌟صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سفارش کی درخواست پر آپﷺ نے فرمایا: ⬅️ اپنے اچھے اعمال سے میری مدد کرنا تاکہ میں تمہاری شفاعت کر سکوں۔ 🚫 کافر کی شفاعت کوئی پیغمبر یا رسول نہ دنیا میں کر سکتا ہے نہ آخرت میں ۔ 🛑 انسان کی غلط فہمی ~~》اللہ کی صفت رحمت کی وجہ سے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ 🟡 اللہ کی صفت عدل ~~》 لوگوں کے درمیان عدل کا معاملہ کرنا Genre Learning